islam and judaism conflict,judaism and islam are the same religion,jews in quran,why do jews and muslims fight,difference between jews and muslims,why do muslims dislike jews,jews and muslims similarities,jews and muslims are cousins,,islamic stories for kids,islamic stories in english,islamic stories of prophets,islamic stories from the quran,islamic true stories,islamic story in hindi,islamic love story,islamic stories in urdu,iman afroz waqiat in urdu,hairat angaiz waqiat urdu,dilchasp waqiat in urdu,hairat angaiz maloomat in urdu,maulana arsalan bin akhtar books free download,sachay islami waqiat true islamic stories,islamic stories in urdu for kids,islamic stories in urdu about prophet,islamic stories in urdu dailymotion,sachay islami waqiat true islamic stories,islamic stories in urdu youtube,islamic stories in urdu videos,islamic stories in urdu pdf,islamic stories in urdu hazrat muhammad
ایک یہودی عالم کا گزر مسلمانوں کے ایک قریہ سے ہوا ۔ اس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیں ان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کردوں۔ قریہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی ۔ یہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کی ابتداء کی جائے اور اس چرواہے کے دل ودماغ میں اسلام کے خلاف شکوک وشبہات پیدا کیا جائے۔ یہودی نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمان مسافر ہوں۔ باتوں ہی باتوں میں یہودی کہنے لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کے لئے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہ قرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہے۔ لیکن قرآن میں بیشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں۔ بار بار دہرانے کی کیا ضرورت ہے ۔ اگر متشابہات کو نکال دیاجائے تو قرآن اور بھی مختصر ہوجائے گا اور یاد کرنے میں بہت آسانی بھی ہوجائے گی۔ چرواہا اس کی بات غور سے سنتا رہا اور خاموش رہا ۔ جب یہودی کی بات مکمل ہوئی تو چرواہے نے کہا کہ واہ تمہار خیال تو بہت اچھا ہے ۔ یہودی دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ یہ چرواہا میرے جال میں آگیا ہے ۔

پھر اچانک چرواہے نے کہا کہ میرا ایک سوال ہے؟ یہودی نے کہا : پوچھئے تو صحیح؟ تم چاہتے ہوکہ قرآن میں جو متشابہات یا تکرار ہے اس کو نکال دینا چاہئے..؟

ہاں بالکل میرا یہی خیال ہے کہ جو آیت ایک مرتبہ سے زیادہ ہو اس کو قرآن سے خارج کردیا جائے تو قرآن مختصر ہوجائے گا اور یاد کرنے میں آسانی بھی ہوگی۔

چرواہے نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ تمہارے بدن پر بھی بعض اعضاء ایک سے زیادہ ہیں جو تکرار پیدا کررہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے...

کیوں نہ تمہارے دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو کاٹ دیا جائے۔ دو پیروں میں سے ایک پیر ہی رکھا جائے اس لئے کہ یہ تکرار ہے۔ دو دو آنکھوں کی کیا ضرورت ہے کام تو ایک آنکھ سے بھی پورا ہوسکتا ہے کیوں نہ تمہاری ایک آنکھ بھی نکال دی جائے۔ دو کان اور دو گردوں کی کیا ضرورت ہے اس میں بھی تکرار ہے ۔ اگر ان تمام تکرار والے اعضاء کو نکال دیا جائے تو تمہار ا بدن بھی ہلکہ ہوجائے گا اور غذا کی مقدار بھی کم ہوجائے گی اور تمہیں زیادہ جدوجہد کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، کیا خیال ہے..؟

یہودی اپنا سیاہ منہ لیکر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی راہ لی ۔ زندگی بھر یہی سوچتا رہا کہ جب مسلمانوں کے چرواہے کی یہ فکر ہے تو ان کے علماء کے افکار کیسے ہوں گے۔۔۔؟

Post a Comment Blogger

 
Top