بہترین اُردو لطیفوں کا گلدستہ
  • ان پڑھ
    آئن اسٹائن سفر کرتے ہوئے بھوک لگنے پر کھانے کے کیبن میں پہنچا۔مینو پیش کیا گیاتو اس وقت اس کے پاس عینک نہیں تھی۔بہت کوشش کے باوجود بھی جب وہ مینونہ پڑھ سکا تو اس نے بیرے سے مینو پڑھنے کے لئے کہاتو بیرے نے فوراً جواب دیا:
    ’’معاف کیجئے گا،میں بھی آپ کی طرح ان پڑھ ہوں۔‘‘
  • بڑا کون؟
    حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا گیا :’’کیا آپ بڑے ہیں یا رحمۃ اللعالمین حضرت محمدﷺ؟‘‘
    حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا:’’میرے آقا ہی بڑے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ میں ان سے پہلے پیدا ہوا۔‘‘
  • میزبانی
    احمد ندیم قاسمی کراچی گئے تو ابراہیم جلیس نے ان سے پوچھا:’’قاسمی صاحب!آپ لاہور کب جا رہے ہیں؟‘‘
    ’’پرسوں ٹرین سے بکنگ کروا رکھی ہے۔‘‘قاسمی صاحب نے جواب دیا تو ابراہیم جلیس نے کہا:
    ’’کمال ہے صاحب!اس سے اگلے دن آپ کی دعوت کا میں نے اہتمام کیا ہوا تھا۔اس کا مطلب ہے اس بار بھی آپ مجھے میزبانی کا شرف نہیں بخشیں گے۔‘‘
  • سوجی ہوئی ٹانگ
    ڈاکٹر (مریض سے): ’’آپ کی ٹانگ کافی سوجی ہوئی ہے، لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں‘‘۔
    ’’اگر آپ کی ٹانگ سوجی ہوئی ہوتی تو میرے لئے بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں ہوتی‘‘۔ مریض نے غصے سے جواب دیا‘‘۔
  • بھول
    مریض: ’’میں ہر بات بھول جاتا ہوں‘‘۔
    ڈاکٹر: تب پھر پہلے میری فیس ادا کریں‘‘۔
    مریض: ’’لیکن پہلے یہ تو بتائیے، آپ ہیں کون؟‘‘
  • چار آدمی
    اسلم (چلا کر اپنے پڑوسی سے) چچاجان دوڑ کر آئیں میرے بھائی کو چار آدمی مار رہے ہیں‘‘۔
    پڑوسی: ’’کیا چار آدمی کم ہیں جو تم مجھے بلا رہے ہو‘‘
  • تحفہ
    اسلم: ’’تمہارے دادا ابو نے میرے دادا ابو کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا‘‘۔
    امجد: ’’یار کیا ہوا‘‘۔
    اسلم: میرے دادا کے منہ میں دانت نہیں ہیں۔ تمہارے دادا نے انہیں ٹوتھ پیسٹ اور برش تحفے میں دیا ہے‘‘۔
    امجد: ’’یار تمہارے دادا نے بھی میرے دادا کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔ میرے دادا کے سر پر بال نہیں ہیں انہیں تحفے میں کنگھی اور شیمپو دیا ہے‘‘۔
  • غریب
    (ایک دوست دوسرے دوست سے) ’’میں اپنی تنخواہ کا 75 فیصد حصہ غریب افراد کی مالی مدد میں لگاتا ہوں‘‘۔
    دوسرا دوست: ’’اور تمہارے بیوی بچوں کا کیا ہوتا ہے؟‘‘
    پہلا دوست: ’’وہی تو محلے کے غریب افراد ہیں‘‘۔
  • دوسری ٹانگ
    بوڑھا مریض: ’’ڈاکٹر صاحب میری داہنی ٹانگ میں درد ہے‘‘۔
    ڈاکٹر: ’’یہ تو بڑھاپے کی وجہ سے ہے‘‘۔
    مریض: ’’مگر ڈاکٹر صاحب میری دوسری ٹانگ بھی تو اسی عمر کی ہے‘‘۔
  • کار
    ’’آپ یہ کار دیکھیں‘‘ کاروں کے ڈیلر نے ایک گاہک سے کہا ’’یہ کار پہاڑی پر چڑھ جائے گی اس کا انجن ۔۔۔‘‘
    گاہک نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
    ’’نہ بھائی! میرے پاس ایسی ہی ایک کار تھی جو بس پر چڑھ گئی تھی۔ کوئی اور دکھاؤ‘‘۔
  • کھانا اور دوا
    ایک دفعہ ایک بھکاری نے ملا نصیرالدین کے گھر جاکر صدا لگائی تو ملا نصیرالدین باہر نکلے۔ بھکاری نے ان سے کہا: ’’آپ کے پڑوسی نے مجھے پیٹ بھر کر کھانا دیا ہے آپ بھی خدا کے نام پہ کچھ دیجئے‘‘۔
    ملا نصیرالدین نے جواب دیا: ’’ٹھہرو میں تمہیں بدہضمی دور کرنے کی دوا دیتا ہوں‘‘۔
  • آگ، دھواں اور پانی
    ایک گاؤں کا چوہدری تقریر شروع کرتے ہوئے بولا:
    ’’آج میری تقریر کا عنوان ہے آگ، دھواں اور پانی‘‘۔
    سادہ لوح دیہاتی بولا ’’چوہدری صاحب! صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ حقے پر تقریر کرنی ہے‘‘۔
  • خط اور پتے
    مالک (نوکر سے): ’’میرے دونوں خط لیٹر بکس میں ڈال دیئے تھے نا۔۔۔؟‘‘
    نوکر: ’’جی ہاں! ڈال تو دیئے تھے مگر پردیس والے خط میں پچاس پیسے کا ٹکٹ لگا ہوا تھا اور آپ کے گاؤں والے خط میں دو روپے کا ٹکٹ لگا ہوا تھا‘‘۔
    مالک: ’’اوہ! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی‘‘۔
    نوکر: ’’فکر مت کریں۔ میں نے خطوں کے پتے بدل دیئے تھے‘‘۔
  • ٹاٹ کا تھان
    گاہک: ’’مجھے کوئی ایسا کپڑا دکھاؤ جو مضبوط ہو، پائیدار ہور اور سستا بھی ہو‘‘۔
    دکاندار (نوکر سے) ’’انہیں ٹاٹ کا تھان دکھادو‘‘۔
  • دوسو میں سے دو
    سروے کرنے والے ایک شخص نے ایک سرکاری دفتر کے انچارج سے پوچھا: ’’آپ کے دفتر میں کتنے آدمی کام کرتے ہیں؟‘‘
    اس نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور بولا ’’دو سو میں سے دو‘‘۔
  • سنہری موقع
    جج ملزم سے ۔۔۔ ’’تم نے سنار کی دکان سے زیورات کیوں چوری کئے‘‘۔
    ملزم۔۔۔ ’’جناب لکھا تھا سنہری موقع سے فائدہ اُٹھائیے‘‘۔
  • بلی اور قالین
    استاد (شاگرد سے) ’’اگر قالین پر دودھ گر جائے تو کیا کرنا چاہئے‘‘۔
    شاگرد: ’’قالین پر بلی چھوڑ دینی چاہئے‘‘۔
  • گھڑی اور جوتے
    مظہر: ’’امی جان آپ نے کہا تھا کہ اگر میں پاس ہوجاؤں تو آپ انعام میں گھڑی لے کر دیں گی۔ اگر میں فیل ہوں تو؟‘‘
    امی: ’’جوتے‘‘۔
  • تھپڑ اور خبر
    ایک دفعہ ایک شیر اور بندر کے درمیان دوستی ہوئی۔ ایک دن شیر نے مذاق میں بندر کو کہا
    ’’چلو ایک دوسرے کو تھپڑ مارتے ہیں‘‘۔ بندر نے جواب دیا ’’آقا پہلے میں آپ کو ماروں گا، کیونکہ آپ کے تھپڑ سے تو میں مرجاؤں گا‘‘۔
    یہ کہتے ہوئے بندر نے شیر کو تھپڑ مارا اور بھاگ گیا اور ایک دفتر میں گھس کر کپڑے پہن کر اخبار ہاتھ میں لے کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ جب شیر آیا تو پوچھا ’’بھائی آپ نے ادھر سے کسی بندر کو تو گزرتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘۔
    بندر نے جواب دیا ’’ہاں دیکھا ہے جس نے آپ کو تھپڑ مارا تھا‘‘۔
    شیر (حیران ہوکر) ’’تم کو کیسے پتہ چلا؟‘‘
    بندر: ’’سر اخبار میں یہ خبر چھپی ہے‘‘
  • زنجیر یا چٹیا
    ایک عورت ریل گاڑی میں سفر کررہی تھی کہ اچانک بجلی چلی گئی اور اس کا دل گھبرانے لگا، اس نے زور زور سے زنجیر کھینچنا شروع کی، جب بھی وہ زنجیر کھینچتی تو اسے تھپڑ پڑتا۔ جب بجلی آئی تو اس نے ساتھ بیٹھی عورت سے پوچھا ’’جب میں زنجیر کھینچتی تو کون مجھے تھپڑ مارتا تھا‘‘۔
    اس عورت نے کہا: ’’تم زنجیر کھینچ رہی تھی یا میری چٹیا‘‘۔
  • لکھنا اور پڑھنا
    ماں (بیٹے سے) ’’بیٹا کیا کررہے ہو‘‘۔
    بیٹا: ’’امی اپنے دوست کو خط لکھ رہا ہوں‘‘۔
    ماں: ’’تم کو لکھنا کب آتا ہے؟‘‘
    بیٹا: ’’تو میرے دوست کو پڑھنا کون سا آتا ہے‘‘۔
  • نرس
    پاگل خانے کا ڈاکٹر (نرس سے) ’’یہ پاگل دیوار سے کیوں چپکا ہوا ہے؟‘‘
    نرس: ’’یہ خود کو ٹیوب لائٹ سمجھتا ہے‘‘۔
    ڈاکٹر: ’’اسے اتار دو‘‘۔
    نرس: ’’اس صورت میں لائٹ چلی جائے گی‘‘۔
  • لڑائی
    :ایک آدمی ہوٹل میں داخل ہوا اور ویٹر کو پکارتے ہوئے تیزی سے بولا
    ’’اس سے پہلے کہ جھگڑا شروع ہو مجھے جوس کا ایک گلاس پلادو‘‘۔
    ویٹر جلدی سے اس کے لئے جوس لے آیا۔
    آدمی نے اسے حلق میں اُنڈیلتے ہوئے کہا
    ’’جلدی کرو جھگڑا ہونے والا ہے ایک جوس اور لاؤ‘‘۔
    اسی طرح جھگڑے کا ذکر کرکرکے وہ چھ گلاس پی گیا۔
    ساتویں گلاس پر ویٹر نے پوچھا ’’اب تک آپ اتنے گلاس جوس پی چکے ہیں محترم اس کی قیمت کون ادا کرے گا‘‘۔
    ’’آہ‘‘۔ آدمی نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔
    ’’آخر وہی ہوا نہ جس کا مجھے ڈر تھا۔ جھگڑے کی ابتدا ہوہی گئی‘‘۔
  • گھراورہاسٹل
    استاد: (شاگرد سے) ’’آج آپ نے گھر کا کام کیوں نہیں کیا؟‘‘
    شاگرد: ’’جناب میں گھر پر نہیں ہاسٹل میں رہتا ہوں‘‘۔
  • پانی اور بجلی
    اسداللہ (اپنے دوست شعیب سے) ’’یار آج کل پانی بھی خالص نہیں ملتا‘‘۔
    اسداللہ (حیرت سے) ’’یار وہ کیسے؟‘‘
    شعیب: ’’پانی سے بھی بجلی نکالی جاتی ہے‘‘۔
  • گلاب کی جڑ
    چھوٹا بھائی (بڑے بھائی سے) ’’آپ نے جو گلاب کی قلم لگائی تھی، اس کی جڑ ابھی تک پیدا نہیں ہوئی‘‘۔
    بڑا بھائی: ’’تمہیں کیسے معلوم؟‘‘
    چھوٹا بھائی: ’’میں روزانہ اس کو نکال کر دیکھتا ہوں‘‘۔
  • جہنم کی کنڈی
    بیوی: (شوہر کے سامنے بچے کو سمجھاتے ہوئے) بیٹا برے کام کرو گے تو جہنم میں جاؤ گے۔
    شوہر: (بات کاٹتے ہوئے بولا) اب سے جہنم میں کوئی نہیں جائے گا۔
    بیوی: (حیرت سے) وہ کیوں؟؟؟
    شوہر: تمہارا ابا گیا ہے نے پچھلے دنوں۔۔۔۔۔اس نے اندر سے کنڈی لگا لی ہے۔
    بیوی: (کچھ دیر سوچتے ہوئے) انہوں نے کنڈی تو لگانی ہی تھی۔
    شوہر: وہ کیوں؟
    بیوی: تمہاری ماں جو اندر تھی۔
  • قید خانہ
    عرب شاعر ابونواس کی ہارون الرشید کے دربار تک رسائی تھی۔ایک بار ہارون کی بیگم زبیدہ نے ابو نواس سے کہا کہ اس کے بیٹے شہزادہ امین کو شاعری کا شوق ہے۔اس لئے وہ امین کو اصلاح دیا کرے۔
    اب ابونواس کیسے انکار کر سکتا تھا۔امین نے اپنے اشعار اصلاح کے لئے ابو نواس کو سنائے تو اس نے عروضی غلطیوں کی نشان دہی کی۔امین کو غصہ آگیا۔اس نے اسی وقت ابونواس کو زنداں میں ڈال دیا۔امین کی اس حرکت کا علم ہارون کو ہواتواس نے ابونواس کی رہائی کا حکم دیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔
    ایک روز جب امین،ہارون اور ابونواس اکٹھے تھے۔ہارون نے امین سے کہاکہ
    ’’امین!تمہارے استاد موجود ہیں،موقع سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اشعار کی اصلاح کروالو۔‘‘
    امین نے چند اشعا پڑھے،ابونواس نے غور سے سنے مگر زبان سے کچھ نہ بولا۔چپ چاپ اٹھا اور چل دیا۔ہارون نے حیرت سے پوچھا:
    ’’ابونواس کہاں چلے ہو؟‘‘
    تو ابو نواس نے امین کو معنی خیز نظروں سے دیکھااور جواب دیا:
    ’’امیرالمومنین!قیدخانے۔‘‘

  • لطیفہ عام طور ایک غیر معمولی بات ہوتی ہے جو کہ انسان کو مسکرانے پر مجبور کردیتی ہے۔ آج کے دور میں انسان کو رلانے والے تو بہت مل جاتے ہیں لیکن ہنسانے والے چند ایک ہی ہیں۔ پہلے پہل ایسے بزرگ ہوا کرتے تھے جو روتے کو ہنسا دیتے تھے۔
    اس ویب سائٹ میں باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ ہم نے مختلف جگہوں سے کچھ بہتریں لطیفوں کو بھی جمع کیا ہے جو کہ یقیناً آپ قارئین کیلئے ہنسی کا موجب بنے گئے۔ پڑھنے کے بعد نیچے کمنٹ کر کے ضرور بتائیے گا کہ آپ کو کونسا لطیفہ سب سے زیادہ اچھا لگا؟

    Post a Comment Blogger

     
    Top