پشتونوں کی دلچسپ تاریخ
فارسی میں پشتون ۔ مقامی زبان میں پختون اور اردو میں پٹھان ۔ یہ قوم دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ایک غیرت مند قوم کے طور پر گردانی جاتی ہے۔ جن میں افغانستان،پاکستان، بھارت اول نمبر پر ہیں۔ دنیا میں پشتون اپنی وفا اور غیرت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لفظ پشتون کا مطلب ہوتا ہے غیرت و وفا والا اور اپنے عزت اور دین پر مر مٹنے والا۔ پشتونوں نے قیام پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ پشتون کی اصلاح عموماً پٹھان اور افغان پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سارے پٹھان ہی کہلاتے ہیں۔ بعض ان میں کافی فرق بھی کرتے ہیں۔اور پٹھان ' پشتون اور افغان کو الگ الگ قبیلوں سے تصور کرتے ہیں۔ اور ان ناموں کے وجہ تسمیہ اور تاریخ الگ الگ بیان کرتے ہیں۔ بہرحال میں بحثیت مجموعی ان سب کا تذکرہ کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ زیادہ تفصیل میں گیا تو بات بہت زیادہ لمبی ہوجائے گی۔ آیئے اپنے دلچسپ معلومات  پیج کے دوستوں کو ان کی تاریخ کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔
afghan definition,afghanistan history,afghanistan people,history of pathans,pakhtoon,pakistan pashto,pashto books,pashto language,pashtun,pashtun culture,pashtun girl,pashtun muslim,pashtun people,pashtun tribes,pathan,pathan history,pushto, the history of pashtuns, history of pathans, pakhtoon history, where did pashtuns originate from, pathan people, afghani pathan, pathan culture, pashtun and pathan, pashtun race, history of pathans in urdu books, history of pathans in urdu pdf

آپ نے قرآن پاک میں حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں پڑھا ہوگا کہ ایک موقع پر انہوں نے ایک پتھر پر اپنا عصامارا تو بارہ چشمے پھوٹ پڑے کہ ہر چشمہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لئے الگ الگ تھا۔ تو تاریخ دان یہاں سے ہی ان کی تاریخ شروع کرتے ہیں۔ اسرائیل کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق پشتون یا پٹھان یہودی النسل ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل سے ہے۔کیونکہ اس وقت جتنے بھی یہودی ہیں وہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے کے دو قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
جب کہ بقیہ دس اپنا مذہب تبدیل کرچکے ہیں۔ یا ان کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہورہا۔ ان دس قبائل کو اسرائیل کی تباہی کے بعد فاتحین نے جلاوطن کر دیا تھا جس کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ پہلے ایران پھر افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے جبکہ جیوش اٹلس میں صوبہ سندھ کی قدیم بندرگاہ دیبل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بندرگاہ یہودی تاجروں کی بہت بڑا مرکز تھی۔ بنی اسرائیل کے تاجر زمانہ قدیم میں بذریعہ بحری جہاز سندھ اور بلوچستان کی بندرگاہوں پر آتے رہے اس لیئے ان دونوں صوبوں کے بیشتر شہروں اور بندرگاہوں میں یہودیوں کے تجارتی مراکز اور عبادت گاہیں قائم ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے زمانہ قدیم میں پاکستان کے بعض علاقوں میں یہودیت کے ماننے والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

  اسرائیل میں بارہ قبائل آباد تھے جنہیں بنی اسرائیل کے اجتماعی نام سے پکارا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صرف دو قبائل (آج کے یہودی) توریت پر عمل کرتے ہیں جبکہ باقی اب دس قبائل توریت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ لیکن یہ بھی بنی اسرائیل کا حصہ تھے۔ آج کا شمالی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے نینوا کی اشوریہ قوم نے فتح کرلیا تھا جبکہ جوڈا کے نام سے موسوم جنوبی علاقہ پر صدیوں بعد بابل سے آنے والے حملہ آوروں نے قبضہ کیا۔ جب بابل کے فرماں روا بخت نصر نے یروشلم (موجودہ فلسطین )پر قبضہ کرکے اسرائیلی بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو بنی اسرائیل کے بہت سے قبیلے بھاگ کر ایران (فارس) کے قریب غور کے پہاڑوں میں جا بسے اور پھر یہاں سے دیگر خطوں تک پھیل گئے۔

 ہزاروں سال سے دنیا میں زمانہ قدیم کے گمشدہ یہودی قبائل کے بارے میں گردش کرنے والی داستانوں کے مطابق ایتھوپیا میں آباد فلاشا یہودیوں اور افغانستان، مشرقی ایران اور پاکستان کے پشتون قبائل کو ان یہودیوں کی نسل سمجھا جاتا ہے۔ پشتون افغانستان میں سب سے بڑا نسلی گروپ اور پاکستان میں دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے۔ خود بعض افغانوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق قدیم زمانہ کے یہودیوں سے تھا جبکہ افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم برملا یہ اقرار کرتے رہے کہ ان کا تعلق بنی اسرائیل کے بن یامین قبیلے سے ہے۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان کی نصف آبادی یہودی قبیلے کے بچھڑے بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔

ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قریش سردار خالد بن ولیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ اِن لوگوں کے پاس رسالت کی خبر لے کر آئے اور اس خبر کی تحقیق کے لیئے قیس نامی شخص کی قیادت میں چند سرداروں کا وفد اُن کے ساتھ مکہ روانہ ہو گیا۔ یہ قبائلی سردار بحیثیت مہمان جب مکہ پہنچے تو وہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کرلیا ۔جبکہ فتح مکہ کی مہم جوئی میں بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے۔ ان سرداروں کو واپسی پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحفے تحائف بھی دیئے اور اس وفد کے امیر قیس کا اسلامی نام عبدالرشید رکھ دیا جبکہ اُسے "پہطان "یا" بطان" کا لقب بھی عطاءکیا اور پھر یہی لفظ بگڑ کر پٹھان بن گیا۔

افغانوں کی روایات کے مطابق بھی امیر قیس کا نام عبدالرشید خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا اور فرمایا کہ ان کی نسل اسلام پر اس قدر مضبوطی سے کاربند ہوگی کہ جس طرح کشتی کا بطان ہوتا ہے اور پھر یہی لقب بعد میں زبان کے تغیرات کے باعث پٹھان بن گیا جبکہ لفظ پختون کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بخت نصر کے ظلم سے بھاگ کر فارس (ایران) میں پناہ لینے والے قبائل میں سے ایک قبیلے کا نام بنی پخت تھا جس سے تعلق رکھنے والوں کو رفتہ رفتہ پختون کہا جانے لگا۔ اہلِ ایران انہیں افغان کہتے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب بخت نصر نے ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو یہ لوگ اس ظلم کے خلاف آہ فغاں کرتے رہے۔ اور ایک بات یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ کہ افغان سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والدحضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جنات کو کہیں کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جنات کو حکم دیا کہ آفغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائے وہ زبان بعد میں "پختنو" کے نام سے مشہور ہوگئی۔

بعض مورخین کے مطابق پٹھان آریائی یا یونانی نسل سے ہیں۔اور بعض کے نزدیک یہ قیس عبدالرشید کی اولاد ہیں جبکہ تیسرے نظریئے کے مطابق ان کا تعلق بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل سے ہے۔ خود کو قیس عبدالرشید کی اولاد سمجھنے والوںکا نظریہ ہے کہ مکہ میں قیام کے دوران حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی صاحبزادی اُن کے مورثِ اعلیٰ کے نکاح میں دیدی تھی جنہیں وہ ہمراہ لے کر اپنے وطن واپس آیا اور پھر انہوں نے یہاں اپنی بقیہ زندگی اسلام کی ترویج و اشاعت میں صرف کر دی۔ اس طرح قیس عبدالرشید کی اولاد پٹھان کہلاتی ہے جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود قیس عبدالرشید کا تعلق بھی بنی اسرائیل کے بادشاہ ساؤل (حضرت طالوت) کی سینتیسویں پشت سے تھا۔ اس طرح آخری دونوں نظریات کی روشنی میں ان کا تعلق بنی اسرائیل سے ہی بنتا ہے۔

سب سے بڑی عجوبہ خیز بات یہ ہے کہ ان میں یوسف زئی (یوسف کے بیٹے)، داؤد خیل (داؤد کے بیٹے)،موسیٰ خیل (موسیٰ کے بیٹے) اور سلیمان خیل (سلیمان کے بیٹے) سمجھے جاتے ہیں لیکن اس کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے کہ موسیٰ خیل، داؤد خیل، یوسف زئی، سلیمان خیل وغیرہ کا قدیم پس منظر کیا ہے۔

بہرحال اس تاریخ میں اتنی باتیں شامل ہوچکی ہیں کہ اصل حقائق کی تصدیق لگ بھگ ناممکن سی ہوگئی ہے۔کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی جھوٹ۔

بہرحا ل ہندوستان والے انہیں پٹھان کہتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی انہیں پٹھان اور پشتون، ایرانی افغان کہتے ہیں مگر یہ خود کو پختون کہتے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت متعدد قبائل کا مجموعہ بن چکے ہیں جبکہ ان قبائل کی ہزارہا شاخوں کی متعدد ذیلی شاخیں بھی ہیں جو اشخاص یا علاقے سے منسوب کی گئی ہیں۔

افغانوں یا پٹھانوں کے کئی اوصاف عربوں سے ملتے جلتے ہیں۔ عرب قوم مہمان نواز، بہادر اور اہلِ قلم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری قوموں سے اتنی جلد مرعوب نہیں ہوتی تھی۔ ان چند اوصاف کے علاوہ کوئی اور اوصاف عربوں کے اندر زمانہ جاہلیت میں نظر نہیں آتے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہی چند اوصاف افغان یا پٹھان قوم میں بھی اسی شدت کیساتھ پائے جاتے ہیں جبکہ ان کی بیشتر چیزیں یہودیوں سے بھی ملتی جلتی ہیں۔ نسلی طور پر دونوں اپنے آپ کو دنیا کی بہترین قوم تصور کرتے ہیں، مذہبی طور پر سخت ہیں اور سر پر ٹوپی رکھنے کا رحجان بھی عام ہے جبکہ اسکے علاوہ بھی کئی رسم و رواج مشترک ہیں۔

 ذہن میں رہے کہ پشتونوں کا یہودی نسل سے ہونا قابلِ فخر بات ہے نہ کہ موجبِ توہین کیونکہ یہودی النسل ہونا تو شاید تب اس قوم کے لیئے توہین کا موجب ہوتا جب وہ سید الانبیاءحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لاتے۔ یہ تو اُن کی غیرت کی بلندی اور ایمان کی عظمت کا نشان ہے کہ یہودی النسل ہوتے ہوئے بھی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے۔

کیونکہ یہ وہی آخری نبی ہیں جن کے اوصاف تورات و انجیل میں مذکور ہیں اور جن کی وجہ سے ہی اہلِ کتاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ”نجات دہندہ“ کے طور پر منتظر بھی تھے لیکن بعد میں انہوں نے محض اس جلن اور حسد کی وجہ سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا کہ اُن کا تعلق بنی اسرائیل سے نہیں تھا۔ بنی اسرائیل کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا یہ انکار دلائل پر نہیں بلکہ نسلی منافرت اور حسد و عناد پر مبنی تھا۔
تو یہ پشتونوں کے لئے قابل فخر بات ہے کہ یہ لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے حواری بھی ہیں اور آخری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی بھی۔

Post a Comment Blogger

 
Top