گجر کون تھے؟؟؟  
آپ دوستوں کو گجروں کے بارے کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں کہ وہ کون تھے اور ان کا شجرہ نسب کہاں سے شروع ہو کر کہاں تک جاتا ہے۔  یقینا یہ معلومات آپ کے لئے دلچسپی میں اضافے کا باعث بنےگی۔ذہن میں رہے ذات صرف ہماری پہچان کے لئے ہوتی ہے ۔ اس پر فخر کرنا مناسب نہیں۔ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں پھر پنجابی پٹھان گجر آرائیں بلوچ راجپوت جاٹ وغیرہ ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی ہے۔اس لئے اس کو معلومات کی حد تک ضرور پڑھیں اور آگے شیئر بھی کریں۔ لیکن کسی پر فخر جتانے کے لئے ایسا مت کریں۔ شکریہ
babar gujjar,gujar,gujjar,gujjar boy,gujjar caste,gujjar history,gujjar history in hindi,gujjar song,gurjar,gurjar samaj, gujjar caste list, gujjar history in hindi, gujjar song, gujjar history in urdu, history gujjar subcastes, gujjar community, gujjar agitation, gujjar reservation, history of gujjar caste in urdu,gujjar meaning in urdu,history gujjar subcastes,khatana gujjar history in urdu,chauhan gujjar history,khatana king,gujjar history image

ایک اور بات ذہن میں رہے کہ تاریخ میں اختلاف ہوتا ہے۔ ایک ہی انسان یا قوم کی تاریخ کو مورخین نے مختلف انداز میں تحریر کیا ہوتا ہے۔ اس میں یقینا مورخین کی خود ساختہ باتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں۔ لہذا تاریخ مکمل طور پر سچ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ نہ قرآن ہے اور نہ ہی حدیث۔ اس میں خشک اور تر دونوں طرح کے مضامین شامل ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ بات بالکل ممکن ہے کہ میں جس کتاب کے حوالے سے تاریخ بیان کروں آپ نے اس کو کسی اور طرح پڑھا ہو۔ اب اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔

گجر ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان اور بھارت میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ان میں ہندو اور مسلمان دونوں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔آپ میں سے بھی بہت سے دوست گجر قوم سے تعلق رکھتے ہوں گے۔میرے شہر گجرانوالہ میں تو بہت سے لوگ اس ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور پیشے کے اعتبار سے ان میں اکثر گوالے ہیں۔ یعنی ان کا ذریعہ معاش بھینسوں کے دودھ پر ہی ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان کے بعض علاقوں جیسے کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں میں یہ گوجر تا حال خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں

گوجروسط ایشیا کے قدیم ترین قبیلوں میں سے ایک اہم قبیلہ ہے جس کی تاریخ گزشتہ پانچ ہزار برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ گو جروں نے کئی صدیوں پر محیط اپنی شناخت کی جنگ لڑ تے لڑتے اس قبیلے نے بہت کچھ کھویا اور بہت کچھ حا صل کیا ہے ۔گوجروں کے کئی اور نام ہیں جیسے گجر،گرجر، گرزر، گاوزر اور شاخیں جیسے کہ اجڑ، بکروال، دودھی، بنہارا وغیرہ مگر ہر ایک ذیلی شاخ کا شناختی ،سماجی اور ثقافتی تانا بانا ایسے بنا ہوا ہے کہ وہ اپنے اصل سے مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں۔

گجر کو گوجر اور گرجر بھی لکھا جاتا ہے گجر یا گوجر چھٹی صدی عیسوی میں برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی جسمانی خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ خالص ہند آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ آریائی قوم کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہے۔گوجر یا گرجر کی ایک معنی یہ بھی بتایا جاتا ہے۔ جو کہ سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ سنسکرت میں گر کے معنی دشمن کے ہیں اور جر کے معنی تباہ کے ہیں۔ یعنی گرجر کا معنی ہوا دشمن کو تباہ کرنے والے۔ یہ نام ان کو دشمن پر برتری حاصل کرنے کی وجہ سے ملا۔

گوجروں کی بڑی آبادیاں اس وقت ہندوستان ، پاکستان اور افغانستان میں ہیں اورروزگار کے سلسلے میں یہ جفا کش لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہندوستان کی بارہ ریاستوں میں گوجرو ں کی قابل ذکر آبادی بو د و با ش کر رہی ہے ۔پاکستان کے سبھی صوبوں اور قبائلی علاقوں میں یہ لوگ آباد ہیں ۔افغانستان میں بھی گوجروں کی خاطر خواہ آبادیاں موجود ہیں اور وہاں کے قومی ترانے میں بھی گوجروں کا ذکر ہے جیسا کہ یہ شعر

ہم عرب و گوجر است

ریاست جموں وکشمیر کے گوجر مذہبِ اسلام کے ماننے والے ہیں جب کہ ہندوستان میں گوجروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہےبھارت میں سکھ،جین اورپارسی گوجر بھی موجود ہیں۔

ہندوستان میں ان کی موجودگی کے بارے میں اسکا لروں کے مابین الگ الگ آرا ء پائی جاتی ہیں۔ کچھ مورخین کاخیال ہے کہ یہ قبیلے درحقیقت ہندوستان کے قدیم ترین باسیوں میں سے ہیں جو بعد میں آنے والی نسلوں کے ساتھ مل گئے ہوں گے۔ جب کہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ عرب ، ایران یا ترکی سے آئے ۔ زیادہ تر مورخین کے مطابق یہ لوگ جارجیہ یعنی گورجستان سے بھارت میں داخل ہوئے اور پورے شمالی ہند پر قبضہ جما لیا۔

معروف مورخ کنیڈی نے اپنی تحقیق میں ثابت کرتے ہیں کہ گوجر چونکہ ابتداء ً سورج کی پرستش کرتے تھے، لہٰذا ان کا تعلق ایران سے رہا ہو گا ۔ اس سلسلے میں مزیدثبوت وشواہد پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ قبیلہ سورج کی پوجا کرتا تھا، اسی کی وجہ سے ان کے راجگان جنہوں نے ہندوستان کی الگ الگ ریاستوں پر پانچویں سے بارہویں صدی تک حکومتیں کی ہیں ،اپنا لقب ’’مہر‘‘ یعنی سورج استعمال کیا ہے۔ ان میں مہر ناگ بھٹ، مہر بھوج،مہر دیو پرتہار گوجر وغیرہ بھی شامل ہیں قابلِ ذکر ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطا بق گوجر ترکی زبان کا لفظ ہے جسے ترکی میں گرزر کہتے جو وہاں آج بھی خانہ بدوش قبائل کے لئے اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے۔ گوجری اور ترکی زبان کے کئی لفظ مشترک ہیں۔

کچھ مورخین گجروں کو خزر النسل کہتے ہیں۔ خزر جو ایک ترکی قوم تھی، جس نے نوشیروان عادل سے کچھ عرصہ پہلے عروج حاصل کر لیا تھا اور غالباََ یہی ترک تھے، جن کے خلاف دربند کی سدیں تعمیر ہوئیں۔ خزر نے ترکی خانہ بدوش سلطنت کی روایات کو قائم رکھا۔ قباد کی پہلی تخت نشینی کے وقت خزر قبیلے نے ایران پر یورشیں شروع کردیں۔ قباد نے خزر حملہ آورں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دے کر ملک سے باہر نکالا۔

ایک بات تو طے ہے کہ مورخین کے مطابق گوجروں کے ترکی النسل ہونے میں تو کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس پر اختلاف ہے کہ گوجر خزر النسل ہیں یا نہیں۔ کیوں کہ ترکوں کی مغربی سلطنت جس کی علمبرداری افغانستان کے علاقوں پر بھی تھی وہ خزروں کی دشمن تھی اس لئے خزر قوم کا برصغیر کی طرف آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ جو ترک قبائل ساسانی سرحدوں کے قریبی ہمسائے تھے۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا اور اسی نسبت سے ترک قبائل کو غز بھی کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ غز کے علاوہ غزر بھی پکارا جاتا تھا اور یہ کلمہ ترکوں کے ناموں میں بھی آیا ہے۔ مثلاً غزر الدین مشہورخلجی التتمش کے دور میں گزرا ہے۔ غرز جو ترک تھے ہنوں کی شکست کے بعدبرصغیر میں داخل ہوئے۔ یہ نہ صرف بہترین لڑاکے تھے بلکہ خانہ بدوش اور گلہ بان بھی تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ غرز ہند آریائی لہجہ میں گجر ہوگیا۔ کیوں کہ ہند آریا میں ’غ‘ ’گ‘ سے اور ’ز‘ ’ج‘ سے بدل جاتا ہے اور گجر کا معرب گوجر ہے۔

مولوی عبدالغنی شاشی اپنی مقالے’’ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ پر گوجر عہد کے اثرات ‘‘ میں رقم طراز ہیں : ’’ گوجر خانہ بدوش قبائل اور عرب کے بدّوی قبائل کی طرزِ معاش، تہذیب، شکل، رہن سہن کے طریقے آج بھی آپس میں بہت ملتے جُلتے ہیں۔ اس لئے یہ مانا جاسکتا ہے کہ سامی قبائل کے بچے کچھے خاندان اپنے ریوڑ اونٹ اور پالتوجانورلے کر کوہِ قاف کی طرف نکلے ہوں اور وہی گرجی اور بعد میں گوجر کہلاتے ہوں۔‘‘

محمد عبدالمک نے ’شاہان گوجر‘ میں لکھا ہے کہ دوسرے ممالک میں اس قوم کو خزر، جزر، جندر اور گنور بھی کہا گیا ہے۔ برصغیر میں یہ پہلے گرجر کی صورت پھر گوجر ہوگیا۔ یہ لوگ گرجساتان سے آئے تھے۔ بحیرہ خزر کا نام شاید خزر پڑھ گیا کہ اس کے ارد گرد خزر یعنی گوجر آباد تھے۔ جو کہ سھتین قبائل کی نسل سے ہیں۔ شاہان گوجر میں اگنی کل کی چاروں قوموں چوہان، چالوکیہ، پڑھیار اور پنوار کا ذکر گوجروں کے ضمن میں کیا ہے۔

حسن علی چوہان نے ’تاریخ گوجر‘ میں لکھا ہے کہ رامائین میں گوجر کے معنی غازی کے آئے ہیں اور یہ کشتری ہیں جو بعد میں گوجر کہلانے لگے۔ اس میں سورج بنسی، چندر بنسی، چوہان، چالوکیہ، پڑھیار، پنوار اور راٹھوروں کو بھی گوجر کہا گیا ہے۔ مگر ان اقوام نے کبھی گوجر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی گوجروں نے کبھی ان اقوام سے اپنا نسلی تعلق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جب کہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ گوجر قوم کے لوگ نوکری نہیں کرتے ہیں، ان کی گزر اوقات دودھ دہی پر ہے۔ جلال الدین اکبر نے ایک قلعہ بنا کر اس میں گوجروں کو آباد کیا تھا جس کا نام گجرات ہوگیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوجر اور گجر کی اصل ایک ہی ہے۔

گوجروں کی آبادی کا دور دور تک منتشر ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی فرمانروائی کا دائرہ کس قدر وسیع تھا۔ گوجر بیشتر گلہ بانوں کی ایک قوم تھی جو جنگ و پیکار کی دلدادہ تھی اور آج کل بھی گوجروں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ یہ مستقل مزاج زراعت کاروں کی حثییت سے شہرت کے مالک ہیں۔ تاہم انہوں نے عمومی حثیت سے اقامت کی زندگی اختیار کرلی ہے۔ ہند کے انتہائی شمالی مغربی حصہ خاص کر کانگرہ اور سنجھال کے پہاڑوں کے بیرونی کناروں تا حال گوجر خانہ بدوش چرواہوں اور گلہ بانوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے نام پر شمالی مغربی برصغیر میں بہت سی بستیاں، قبضے اور شہر آباد ہوئے جو اب تک موجود ہیں۔

چینی مورخ ہیون سانگ کے مطابق ہندوستان میں گوجر سلطنت مشرق سے مغرب میں ۸ سو ۳۳ میل تک پھیلی ہوئی تھی جس کا دارالخلافہ ’’بھینمال‘‘تھا۔ گوجر عہد میں ہندوستان الگ الگ علاقوں اور چھوٹے چھوٹے راجواڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ ہر علاقے پر کوئی نہ کوئی قوم یا قبیلہ راج کررہا تھا۔ ایسے میں گوجروں کے اوّلین نشانات جو گو جری ورثے کی صورت میں آج بھی موجود ہوں، ان کو ڈھونڈ نکا لنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ گوجر وں کی بھارت میں آمد اور اُس کے بعد اُن کے عروج کا عہد پانچویں صدی عیسوی سے شروع ہو کر بارہویں صدی عیسوی تک جا پہنچتا ہے، پھر بھی قدیم وراثتوں کی چھان بین سے گوجر ورثے کے نشانات مل جاتے ہیں۔

تو یہ کچھ مختصر سا جائزہ تھا کہ "گجر کون تھے؟" اگر آپ ان کے متعلق اور زیادہ جاننا چاہتے ہیں تو اردو میں ایک کتاب "شاہانِ گجر" مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ نیچے رانا علی حسن چوہان صاحب کی گجر ذات کے بارے میں لکھی گئی کتاب (تایخ گرجر) جو کہ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے، اس کے آن لائن ریڈنگ کے لنک دیے گئے ہیں۔  آپ ان کا بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔

Specially thanks to our beloved readed Ahsan Gujjar sahab for this post

Post a Comment Blogger

 
Top