غلامی کی ٹوٹتی زنجیر
حضرت عمر بن عاصؓ کا بیان ہے کہ
حضرت زنباع بن سلامہ جذامیؓ کے پاس ایک غلام تھا۔ ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ غلام ان کی لونڈی کو بوسہ دے رہا ہے چنانچہ انہوں نے غصے میں آ کر اپنے اس غلام کا عضو تناسل کاٹ دیا غلام شکایت نامہ لے کر رسول اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپﷺ نے جب اس کی یہ حالت زار دکھی تو زنباع کو بلا بھیجا جب وہ حاضر ہوئے
تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔
کس بات نے تمہیں یہ سزا دینے پر آمادہ کیا۔
انھوں نے عرض کی
بات یہ ہے کہ اس نے میری ایک لونڈی کے ساتھ یہ حرکت کی۔
رسول اکرم ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ
یہ غلام جس کام کی انجام دہی کی طاقت نہیں رکھتے وہ ان کے سپرد نہ کیا کرو، جو کچھ تم کھاتے ہو وہی ان کو کھلایا کرو، جو
لباس تم خود زیب تن کرتے ہو وہی انہیں پہنایا کرو، اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو انہیں بیچ دو اور جن غلاموں سے تم خوش ہو، انہیں پاس رہنے دو مگر اللہ کی مخلوق کو (اس طرح دردناک) سزا نہ دیا کرو۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ
جس غلام کا مثلہ کر دیا جائے یا اس کو آگ سے سزا دی جائے وہ آزاد ہے اور (جس غلام کو اس طرح سزا دی جائے) وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا آزاد کردہ غلام ہے۔
چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسی وقت غلام کو آزاد فرما دیا۔ غلام نے اپنی آزادی کا پروانہ سن کر عرض کی
اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرے لئے کوئی وصیت فرما دیجئے۔
رسول اکرم ﷺ نے فیصلہ کن وصیت فرمائی۔
میرے تیرے لئے ہر مسلمان کو وصیت کرتا ہوں (کہ وہ تیرے ساتھ اچھا سے اچھا سلوک کریں)۔

خلفائے راشدین اور مسلمانوں نے اپنے نبیﷺ کی وصیت کا کماحقہ حق ادا کیا۔ یہ غلام نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے حسب استطاعت اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو یہ غلام حضرت عمربن خطابؓ کے پاس آیا اور عرض کی کہ میرے بارے میں رسول اکرم ﷺ کی وصیت کا پاس کیجئے۔
عمر بن خطاب ؓ فرمانے لگے۔
ہاں ہاں ضرور۔۔۔۔پھر فرمایا
اگر تم چاہو تو میرے پاس ہی ٹھہر جاؤ۔ تمہارے اوپر جو اخراجات ہوتے تھے، میں دوں گا یا مناسب مقام کی طرف جانا چاہو تو بتاؤ میں تمہارے لئے توصیہ لکھ دوں گا(تاکہ وہاں کا گورنر تمہارا خیال رکھے)۔
غلام نے عرض کی کہ
میں مصر جانے کی خواہش رکھتا ہوں، کیونکہ وہاں کی زمین بہت سرسبزوشاداب ہے۔ امیر المؤمنین نے اس خواہش کے مطابق مصر کے گورنر عمرو بن عاصؓ کو لکھا کہ
یہ غلام آپؓ کی خدمت میں آ رہا ہے۔ اس کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی وصیت کا خاص خیال رکھیں۔
جب غلام مصر میں حضرت عمر بن عاصؓ کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے اس کا پرتباک استقبال کیا اور اسے ہر ممکن سہولیات فراہم کی۔ ایک وسیع و عریض زمین بھی عطا کی اور اس کی رہائش کیلئے ایک گھر بھی عطا کیا جب اس کا انتقال ہوا تو سب کچھ بیت المال میں ضم کر دیا گیا۔
غرض یہ کہ اس غلام کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کے دیے ہوئے فیصلے(وصیت) کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی اُس کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی وصیت کو بسروچشم قبول کیا۔
sahaba karam kay waqia in urdu, Islami History and Waqiat, islami waqiat in urdu mp3, qurani waqiat in urdu Online, ghulam movie video songs ghulam movie online watch hindi movie ghulam aakhri ghulam movie online, History Books, islamic Books, islamic History, Muslims Heroes, True Stories, Sachay islami Waqiat in Urdu

Post a Comment Blogger

 
Top