بہترین اردو لطیفوں کا گلدستہ (پارٹ-2)
انسان کی زندگی غم اور مصیبتوں سے بھری پڑی ہے۔ کبھی نوکری کا دکھ تو کبھی کسی قریبی سے بچھڑنے کا دکھ۔ ان حالات میں انسان کے ہسنے کو تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن کیا کریں یہ دنیا ہے۔ یہاں اپنی من مانی نہیں کی جا سکتی۔
adult jokes in urdu,adult jokes urdu,adult urdu jokes,best jokes in urdu,best urdu jokes,best urdu jokes ever,best urdu shayari ever,best urdu sms,chutkule in punjabi,chutkule in punjabi language,dirty jokes in urdu,dirty jokes punjabi,dirty jokes urdu,fanny joks,funny comments punjabi,funny jokes,funny jokes and stories,funny jokes in punjabi,funny jokes in roman urdu,funny jokes in urdu,funny jokes in urdu language,funny jokes in urdu sms,funny jokes punjabi,funny messages in urdu,funny punjabi,funny punjabi jokes,funny punjabi jokes in punjabi,funny punjabi jokes video,funny punjabi shayari,funny sms in punjabi,funny sms in punjabi language,funny sms in urdu,funny sms joke in urdu,funny sms punjabi,funny stories and jokes,funny story jokes,funny urdu,funny urdu jokes,funny urdu sms,funny urdu videos,hindi english jokes,hindi jokes funny,hindi jokes in english,hindi punjabi jokes,jokes and funny stories,jokes collection,jokes in punjabi,jokes in urdu,jokes punjabi,jokes sms in urdu,jokes urdu,jokes urdu sms,joks in urdu,latest punjabi jokes,latest sardar jokes,new urdu jokes,pakistani funny jokes,pakistani jokes,pakistani jokes in urdu,pakistani punjabi jokes,panjabi jokes,pathan jokes in urdu,punjabi chutkule,punjabi chutkule in punjabi,punjabi chutkule in punjabi language,punjabi comedy jokes,punjabi funny,punjabi funny jokes,punjabi funny jokes video,punjabi funny messages,punjabi funny shayari,punjabi funny shayari in punjabi language,punjabi funny sms,punjabi jocks,punjabi jokes,punjabi jokes dirty,punjabi jokes in punjabi,punjabi jokes in punjabi font,punjabi jokes videos,punjabi joks,punjabi shayari funny,punjabi sms,santa banta jokes in punjabi,santa banta punjabi jokes,santa banta shayari in punjabi,sardar adults jokes in hindi,sardar jokes in urdu,shayari urdu,sms jokes in urdu,sms jokes urdu,sms punjabi,urdu comedy,urdu funny,urdu funny jokes,urdu funny sms,urdu funny videos,urdu jocks,urdu jokes,urdu jokes book,urdu jokes funny,urdu jokes in english,urdu jokes in urdu,urdu jokes pathan,urdu jokes pic,urdu jokes sms,urdu joks,urdu messages,urdu pathan jokes,urdu shayari in urdu,urdu sms funny,urdu sms jokes,very funny jokes in punjabi language,very funny jokes in urdu
تو اسی ضرورت کے پیش نظر ہم نے (گلدستہ ڈاٹ پی کے) کے ویوورز کیلئے کچھ لطائف جمع کیے ہیں۔ امید ہے ان میں سے کوئی ایک آپ کی ہنسی کا موجب بنے گا اور آپ اپنی زندگی کی تکالیف کو بھلا کر کچھ دیر کیلئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لا سکیں گے۔

  • پاگل خانہ
    ایک ملک میں جب وہاں کا سربراہ پاگل خانے کا معائنہ کرنے لگا تو سب پاگلوں کو پہلے ہی سمجھا دیا گیا کہ سب کے سب پاگل ایک ہی آواز ہوکر زندہ باد کے نعرے لگائیں۔ چنانچہ جیسے ہی سربراہ پاگل خانے میں داخل ہوا، پاگلوں نے ہمارے محبوب رہنما زندہ باد کے نعرے لگائے۔ سربراہ پاگلوں کی محبت سے بے حد متاثر ہوا۔ وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہورہا تھا کہ اس کی نظر کونے میں کھڑے ایک شخص پر پڑی، جو بالکل خاموش تھا۔
    سربراہ نے اسے بلایا اور پوچھا ”کیا بات ہے تم نعرے کیوں نہیں لگا رہے ہو؟“
    اس شخص نے سر جھکا کر ادب سے جواب دیا:
    ”سر! میں یہاں پر وارڈن ہوں، پاگل نہیں ہوں“۔
  • بادشاہ
    ماہر نفسیات: مبارک ہو، آپ کا علاج مکمل ہوگیا، اب آپ بالکل ٹھیک ہیں۔
    دماغی مریض: کیا فائدہ، آپ کے علاج سے پہلے میں فرانس کا بادشاہ تھا، اب ایک عام آدمی ہوں۔
  • قابل دید
    یروشیا کے بادشاہ فریڈک دی گریٹ نے ایک مرتبہ فوج کے ایک چھوٹے افسر کو امتیازی نشان عطا کیا تو اس نے بادشاہ کو مخاطب کرکے کہا۔
    جہاں پناہ میں خود کو اس کا حق دار نہیں سمجھتا یہ تمغہ میں صرف میدان جنگ میں ہی وصول کرسکتا ہوں۔
    فوجی افسر کو یہ توقع تھی کہ بادشاہ اس کے جواب سے خوش ہو کر انعام و اکرام سے نوازے گا یا کم از کم تحسین کے کلمات تو ضرور کہے گا لیکن توقع کے برخلاف بادشاہ نے کہا۔ عجیب احمق آدمی ہو، کیا تمہاری خاطر میں جنگ چھیڑدوں۔
  • گھر
    دو بے وقوفوں پر عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔ جج نے ایک بے وقوف سے پوچھا۔
    ”کہاں رہتے ہو؟“
    بے وقوف (ہاتھ ہلاتے ہوئے) ”کہیں بھی نہیں“۔
    جج نے یہی سوال دوسرے بے وقوف سے کیا۔ وہ پہلے بے وقوف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ”اس کے پڑوس میں“۔
  • گھڑی
    ڈاکٹر مریض سے ”تمہاری نبض تو گھڑی کی طرح باقاعدہ چل رہی ہے“۔
    مریض ”جناب آپ کی انگلیاں میری گھڑی پر ہی تو ہیں“۔
  • سورج
    ایک بے وقوف ”یار رات کو سورج کیوں نہیں نکلتا“۔
    دوسرا بے وقوف ”نکلتا ہے بھئی کس نے کہا نہیں نکلتا“۔
    پہلا بے وقوف ”تو نظر کیوں نہیں آتا؟“
    دوسرا بے وقوف ”ارے بے وقوف اندھیرا جو ہوتا ہے، نظر کیسے آئے گا“۔
  • ادھار
    دکاندار: ” ایک سال ہو گیا اور آپ نے اپنا ادھار واپس نہیں کیا۔ اب اگر آپ یہ ادھار واپس کرتے ہیں تو میں نصف رقم معاف کر سکتا ہوں۔“
    گاہک : (چہکتے ہوئے) ”تو پھر ایک سال اور گزرنے دیجئے۔“
  • سماعت
    پہلا کلرک: ”ٹائیفائیڈ سے بیچارے کی سماعت بالکل ختم ہو گئی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اسے کے ای ایس سی سے نکال دیا جائے گا۔“
    دوسرا کلرک:” نہیں ! ایسے لوگوں کو شعبہ شکایات منتقل کر دیا جاتا ہے۔“
  • میں نہیں
    ایک مرتبہ کسی وزیر نے پاگل خانے کا دورہ کیا۔ پاگل خانے کے عملے نے تمام پاگلوں کو سمجھا دیا کہ جب وزیر آئے تو زندہ باد کے نعرے لگائیں۔
    وزیر جب پاگل خانے میں داخل ہوا تو تمام پاگل ”زندہ باد ہمارا لیڈر زندہ باد“ کے نعرے لگانے لگے۔ وزیر پاگلوں کی محبت اور عقیدت سے بہت متاثر ہوا۔ اُس کی نظر کونے میں کھڑے ایک شخص پر پڑی جو بالکل خاموش کھڑا تھا۔ اُس نے اشارے سے اُسے پاس بلایا اور پوچھا۔
    ”کیا بات ہے تم نعرے نہیں لگا رہے؟“
    اُس شخص نے ادب سے جواب دیا ”میں یہاں وارڈ کا سیکورٹی گارڈ ہوں، پاگل نہیں ہوں“۔
  • جن کا بچہ
    ایک دفعہ ایک جن کا بچہ انسان کے بچے کے پاس گیا اور اُسے ڈرانے لگا۔ بچے نے معصومیت سے پوچھا ”تم کون ہو؟“
    جن نے کہا ”میں جن کا بچہ ہوں“۔
    بچہ فوراً بولا ”اچھا تو مسجد میں تمہارا ہی اعلان ہورہا تھا کہ جن کا بچہ ہو آکر لے جائیں“۔
  • ادھار
    ایک فقیر نے قریب سے گزرتے ہوئے شخص کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو اس نے کہا ’ ’ابھی میرے پاس ریزگاری نہیں ہے، واپس آﺅں گا تو مانگ لینا“۔
    ”ہوں.... اس اُدھار کے چکر میں ہزاروں روپے کا نقصان ہوگیا“۔ فقیر نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
  • بھکاری
    ایک بھکاری نے بازار میں کسی عورت سے پیسے مانگے تو اُس نے حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا ”شرم نہیں آتی، بھیک مانگتے ہوئے؟ اچھے بھلے ہٹے کٹے تو ہو اور ہاتھ پاﺅں بھی سلامت ہیں“۔
    ”تو کیا چند سکوں کی خاطر اپنے ہاتھ پاﺅں کٹوالوں؟“ بھکاری نے تلملا کر کہا۔
  • سوال
    فقیر بچے سے: بابا ایک روپے کا سوال ہے۔
    بچہ: بابا سوال اس طرح حل نہیں ہوتا پہلے کاپی میں لکھ کر لاﺅ۔
  • بڑھاپا
    ایک آدمی نے دوسرے سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: بھائی بہت دکھ ہوا تمہارے ابا کا انتقال کا سن کر، انہیں کون سی بیماری تھی؟
    دوسرا بولا: بھائی بڑھاپا انہیں لے گیا۔
    پہلا بولا: آہ! ہاں بھائی، یہ بہت خطرناک بیماری ہے، پچھلے دنوں کئی بچے اس خطرناک بیماری سے مرگئے تھے۔
  • نیم حکیم
    ایک شخص نے ایک نیم حکیم کو دیکھا کہ کندھے پر بندوق اٹھائے کہیں جا رہے ہیں۔
    پوچھا۔ حکیم صاحب کہاں چل دیے۔
    بولے، گلاں گاﺅں میں ایک مریض کو دیکھنا ہے۔
    وہ شخص بولا۔ حکیم صاحب مریض کے لیے تو آپ کی دوا ہی کافی تھی بندوق کی کیا ضرورت ہے۔
  • پوزیشن
    نرس: ڈاکٹر صاحب غضب ہوگیا جس آدمی کو آپ نے ابھی مکمل طور پر صحت مند قرار دیا تھا وہ باہر نکلتے ہوئے دہلیز پر گر کر مرگیا ہے۔
    ڈاکٹر: اس کی لاش کی پوزیشن بدل دو۔ ایسا لگے کہ جیسے وہ اندر آرہا تھا۔جج نے یہی سوال دوسرے بے وقوف سے کیا۔ وہ پہلے بے وقوف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ”اس کے پڑوس میں“۔
  • ٹائیفائیڈ
    ایک خاتون نے اپنی بغیر میک اپ کی تصویر اپنے ڈاکٹر شوہر کو دکھائی، ڈاکٹر نے تصویر دیکھ کر فکر مند لہجے میں کہا۔
    یہ نہیں بچیں گی، انہیں ٹائیفائیڈ ہوگیا ہے۔
  • آپریشن
    مریض: ڈاکٹر صاحب آپریشن کے بعد مجھے پیاس بہت لگنے لگی ہے۔
    ڈاکٹر: معاف کرنا بھائی میں روئی کا گولا تمہارے پیٹ میں بھول گیا ہوں۔
  • دائیں بائیں
    ایک بہت موٹا آدمی ڈاکٹر کے پاس دبلا ہونے کے لئے گیا۔
    ڈاکٹر نے اُس سے کہا ”تم اپنی گردن کو دائیں بائیں ہلایا کرو“۔
    موٹے آدمی نے پوچھا ”مگر کب؟“
    ڈاکٹر نے جواب دیا ”جب تمہیں کوئی کھانے کو کہے“۔
  • تیاری
    ایک طالب علم نے اپنے ساتھی سے کہا۔
    بھئی پیپرز کب ہورہے ہیں۔
    دوست نے جواب دیا، یکم جنوری سے۔
    کوئی تیار بھی کی ہے۔
    ہاں، ایک نیا قلم خریدا ہے، نئے کپڑے سلوائے ہیں، نیا جوتا اور نئی گھڑی خریدی ہے۔
  • پانی
    مشہور سائنس دان آئن اسٹائن کا کہنا ہے کہ ایک روز میں نے اپنے پانچ سالہ بچے سے پوچھا ”جب پانی اُبلتا ہے تو اس میں آواز کیوں نکلتی ہے؟“
    بچہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر بولا ”یہ ان جراثیموں کی چیخیں ہوتی ہیں جو پانی اُبلنے سے مرجاتے ہیں“۔
  • فرفر
    استاد شاگرد سے: ہمارے اسکول میں انسپکٹر صاحب آنے والے ہیں وہ جو بھی پوچیں فرفر جواب دینا۔
    تھوڑی دیر کے بعد انسپکٹر صاحب تشریف لائے۔
    انہوں نے آتے ہی ایک لڑکے سے سوال کیا۔
    بتاﺅ اکبر کہاں پیدا ہوئے۔
    شاگرد: فرفر۔
  • ماچس
    ماں نے گھر سے جاتے ہوئے اپنے دس سالہ بچے سے کہا۔
    ”جب تک میں گھر سے باہر رہوں ماچس کو ہاتھ مت لگانا“۔
    بچے نے جواب دیا ”نہیں امی جی آپ فکر نہ کریں میرے پاس اپنا لائٹر موجود ہے“۔
  • دہلی
    استاد: دہلی میں قطب مینار ہے۔ ایک لڑکا کلاس میں سورہا تھا استاد نے اسے اٹھایا اور غصے سے پوچھا۔ بتاﺅ میں نے ابھی کیا کہا ہے۔
    شاگرد: دہلی میں کتا بیمار ہے۔
  • بے وقوف
    استاد: بھینس کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں۔
    شاگرد: سر یہ تو کوئی بے وقوف بھی بتادے گا۔
    استاد: اسی لیے تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔
  • اسکول
    ایک بچہ اسکول لیٹ پہنچا تو استاد نے غصے سے کہا: اسکول لیٹ کیوں آئے ہو؟
    شاگرد: جناب راستے میں کیچڑ بہت تھا۔ میں ایک قدم اسکول کی طرف چلتا تو دو قدم گھر کی طرف ہوجاتا۔
    استاد: تو پھر تم اسکول کیسے پہنچے؟
    شاگرد: جناب، میں پھر گھر کی طرف چلنے لگا۔
  • مضمون
    اسکول کے بچوں کو کرکٹ پر مضمون لکھنے کے لیے دیا گیا۔ ایک بچہ نے صرف ایک منٹ میں مضمون مکمل کر لیا۔ ساتھ بیٹھے ہوئے بچہ نے حیرانگی سے اس کا مضمون دیکھا تو اس پر لکھا تھا۔ ” بارش کی وجہ سے میچ نہ ہو سکا۔“
  • ایک ٹانگ
    نذیر (عارف سے) ”تمہیں معلوم ہے بگلا ایک ٹانگ پر کیوں کھڑا رہتا ہے“۔
    عارف ”کیوں کہ اُسے معلوم ہے کہ دوسری ٹانگ بھی اُٹھالے گا تو گرجائے گا“۔
  • نوکری
    ایک دوست (دوسرے سے) ”ارے یار! ایک بینک میں اسسٹنٹ کیشیئر کی بہت زبردست جاب آئی ہے اور تنخواہ کے ساتھ کمیشن بھی۔
    دوسرا دوست ”مگر کرنا کیا ہوگا؟“
    پہلا دوست ”کیشیئر کے پاس ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر صرف زبان باہر نکال کر رکھنی ہوگی“۔
    دوسرا دوست ”بھلا وہ کیوں؟“
    پہلا دوست ”بھئی کیشیئر تمہاری زبان پر انگلی لگا کر نوٹ گنتا رہے گا، تاکہ گننے میں آسانی ہو“۔
  • بلی
    مالک نوکر سے ”بھئی بلی تو میری مری ہے تو کیوں رو رہا ہے؟“
    ملازم (بے خیالی میں) ”جناب اب دودھ پی کر کس پر الزام لگاﺅں گا؟“
  • چڑیا گھر
    کچھ بچے چڑیا گھر دیکھنے گئے، جب سارس دیکھ رہے تھے تو ایک شخص نے کہا تم جانتے ہو سارس ایک ٹانگ پر کیوں کھڑا رہا ہے۔
    ایک بچہ جھٹ سے بولا۔ جی ہاں اگر وہ اپنی دوسری ٹانگ بھی اٹالے تو گر پڑے گا۔
  • شکاری
    ایک شکاری بہت بوڑھا ہوگیا ، یہاں تک کہ اس کی نظر بہت کمزور ہوگئی، لیکن شکار کا شوق جوں کا توں رہا، ایک دن وہ شکار کے لیے اپنے ایک دوست کو جنگل میں لے گیا، ایک گولی اس نے تاک کر چلائی پھر اپنے دوست سے پوچھا۔
    میں نے جس جانور پر گولی چلائی ہے اسے کیا کہتے ہیں؟
    دوست بولا: اس جانور کو درخت کہتے ہیں۔
  • کینگرو
    مادہ کینگروگھر میں داخل ہوئی تو نر کینگرو نے پوچھا۔
    ”منا کہاں ہے؟“
    مادہ کینگرو نے جھک کر نیچے دیکھا اور چلا اُٹھی۔
    ”اوہ میرے خدا! کسی نے میری جیب کاٹ لی“۔
  • شک
    ایک جنگل کے جانوروں میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ایک ہرن نے بھاگتے ہوئے چوہے سے پوچھا۔ ”کیا بات ہے؟“
    چوہے نے پریشانی سے کہا ”ایک شیر اغواءہوگیا ہے“۔
    ہرن نے کہا ”تم پریشان کیوں ہو؟“
    چوہا کہنے لگا ”مجھ پر شک کیا جارہا ہے“۔
  • گدھے
    اسٹیج سے جب ایک لڑکا تقریر کرکے اترا تو غصہ میں اپنے دوست سے کہنے لگا۔
    ”جتنے لوگ تقریر سن رہے تھے سب گدھے تھے۔“
    دوست نے جواب دیا: ” جبھی تم انہیں میرے بھائیو! کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔“
  • تلوار
    پہلا دوست ”میں جب اپنے دادا جان کی تلوار دیکھتا ہوں تو میرا دل جنگ پر جانے کے لئے چاہتا ہے“۔
    دوسرا دوست ”پھر کیوں نہیں جاتے؟“
    پہلا دوست ”کیا کروں، فوراً ہی اُن کی لکڑی کی ٹانگ یاد آجاتی ہے“۔
  • ڈرپوک
    شوہر: (بیوی سے)” بیگم رات کو گھر میں چور گھس آئے اور ساراسامان لے گئے اور انہوں نے مجھے مرغا بنا کر مارا۔
    بیوی: ” آپ نے شور کیوں نہیں مچایا۔“
    شوہر: ” واہ بھلا میں کوئی ڈرپوک ہوں جو شور مچاتا۔“
  • اوپر والا
    ایک شخص لاہور جانے کیلئے غلط ٹرین میں سوار ہوگیا۔ دوران سفر اُس نے اوپر برتھ پر لیٹے دوسرے شخص سے سوال کیا ”آپ کہاں جارہے ہیں؟“
    دوسرا شخص ”فیصل آباد“۔
    پہلا شخص بولا ”واہ! کتنی ترقی ہوگئی ہے، اوپر والے فیصل آباد اور نیچے والے لاہور جارہے ہیں“۔
  • چوری
    پہلا ادیب ”اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے“۔
    دوسرا ادیب ”کیوں کیا ہوا؟“
    پہلا ادیب ”غضب خدا کا، میں نے تحریریں چوری کرنے کی مذمت میں ایک مضمون چھپوایا۔ کسی نے وہی مضمون چوری کرکے اپنے نام سے دوسرے رسالے میں چھپوالیا“۔
  • چشمہ
    ایک دوست دوسرے دوست سے ”یار میری بھینس خشک گھاس نہیں کھا رہی ہے“۔
    دوسرا دوست ”سبز چشمہ پہنادو تو پھر وہ خشک
    گھاس کو سبز گھاس سمجھ کے کھا جائے گی“۔
  • دوبارہ
    مالی (لڑکے سے) ”بیٹا درخت پر کیا کررہے ہو؟“
    لڑکا (معصومیت سے) ”آپ کے کچھ آم درخت سے گرگئے تھے، انہیں دوبارہ لٹکا رہا ہوں“۔
  • حسد
    ایک بچے نے دوسرے بچے سے سوال کیا۔
    ”ٹماٹر کا رنگ سرخ کیوں ہوتا ہے؟“
    ”حسد کی وجہ سے“۔ دوسرے بچے نے جواب دیا۔
    ”وہ کیسے؟ بھلا ٹماٹر کس سے حسد کرتے ہیں؟“
    ”تربوز سے“ دوسرے بچے نے جواب دیا۔ ”ٹماٹر سوچتے ہیں کہ ہم تربوز کی طرح موٹے کیوں نہیں ہوتے“۔
  • بھرتی
    پولیس کی بھرتی ہورہی تھی۔ ایک اُمیدوار سے افسر نے پوچھا۔
    ”مجمع کو منتشر کرنا پڑا تو کیا کروگے؟“
    ”میں چندا جمع کرنا شروع کردوں گا“۔ اُمیدوار نے جواب دیا۔
  • پانچ سال بعد
    آرٹسٹ نے گاہک سے کہا۔
    اس تصویر کے سلسلے میں میرے پانچ سال گزر گئے۔
    گاہک: کیا اس قدر محنت کرنی پڑی آپ کو۔
    آرٹس: جی نہیں تصویر تو ایک ہفتے میں مکمل ہوگئی تھی مگر گاہک پانچ سال بعد ملا۔
  • عقل
    ایک ٹھیلے والا آواز لگاتے ہوئے جارہا تھا ”عقل لے لو عقل“۔
    ایک آدمی نے اُسے روکتے ہوئے پوچھا ”کیا بیچ رہے ہو؟“
    ٹھیلے والا بولا ”عقل....“
    ”اچھا بیس روپے کی دے دو“۔
    ٹھیلے والے نے اُسے ایک پڑیا تھما دی۔
    آدمی پڑیا کھول کر سفوف کو چکھتے ہوئے بولا ”یہ کیا! بیس روپے کی اتنی سی چینی؟“
    ٹھیلے والا بولا ”دیکھا کھاتے ہی آگئی ناں عقل“۔
  • آلو
    ایک آدمی سبزی والے کے پاس گیا اور بولا” پچھلے ہفتے جو تم نے آلو دیئے تھے بہت اچھے تھے۔ ویسے ہی آلو دے دو۔ سبزی والا خوش ہو کر بولا ” جناب فکر نہ کریں یہ اسی دن کے بچے ہوئے آلو ہیں۔“
  • سینڈوچ
    ایک بیکری کے باہر بورڈ لگا تھا۔”ہمارے سینڈوچ وزیر اعظم بھی شوق سے کھاتے ہیں۔“
    سامنے دوسری بیکری والے نے بورڈ لگایا۔
    ”خدا ہمارے وزیر اعظم کو محفوظ رکھے۔“
  • حرکت
    گاہک (دکاندار سے) ”جناب کل جو مرغی آپ نے مجھے دی تھی وہ گھر جاتے ہی مرگئی“۔
    دکاندار ”حیرت ہے۔ اُس نے ایسی حرکت دکان پر تو کبھی نہیں کی“۔
  • چمچہ
    ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ایک صاحب چمچہ صاف کرنے لگے، ایک بیرا یہ دیکھ کر ان کے پاس آیا اور بولا۔
    سر آپ کیا کررہے ہیں۔
    میاں اگر میں چمچہ صاف نہ کروں تو میری جیب خراب ہوجائے گی۔
  • بچوں کی ماں
    ایک چھوٹا افریقی بچہ اپنے گھر پچھواڑے میں چھپ کر کیڑے کھا رہا تھا۔ اچانک اس کی ماں آگئی، اس نے اسے ڈانٹا پھر سمجھانے لگی۔
    تمہیں پتا ہے، جب ان چھوٹے بچوں کی ماں انہیں نہیں دیکھے گی تو کتنی اداس اور تنہا ہوگی۔
    بچے نے جھٹ کہا۔ امی آپ اس کی فکر نہ کریں۔
    میں ان کی ماں کو پہلے ہی کھا چکا ہوں۔
  • Post a Comment Blogger

     
    Top