محبت میں مسافت کی نزاکت، مار دیتی ہے
یہاں پر اک ساعت کی حماقت مار دیتی ہے
غلط ہے یہ گماں تیرا، کوئى تجھ پر فدا ہوگا
کسی پر کون مرتا ہے، ضرورت مار دیتی ہے
میں حق پر ہوں مگر میری گواہی کون دے گا
کہ دنیا کی عدالت میں صداقت مار دیتی ہے
سر محفل جو بولوں۔۔۔تو دنیا کو کھٹکتا ہوں
رہوں میں چپ تو اندر کی بغاوت مار دیتی ہے
کسی کی بے نیازی پہ۔۔۔زمانہ جان دیتا ہے
کسی کو چاہے جانے کی یہ حسرت مار دیتی ہے

Post a Comment Blogger

 
Top