Tum Na Dekha Ka Gharib Log Kasiy Zindagi Basar Karte Hen
ایک دن ایک امیر باپ اپنی بیٹی کو ایک گاؤں لے کر گیا کہ اسے دکھا سکے کہ غریب لوگ کیسے ہوتے ہیں؟
انہوں نے ایک غریب خاندان کے ساتھ ان کے گھر اور کھیتوں میں وقت گزارا واپسی پر باپ نے بیٹی سے پوچھا کہ تم نے دیکھا کہ 
غریب لوگ کیسے گزر بسر کرتے ہیں؟ تم نے اس سے کیا سبق سیکھا؟
بیٹی نے جواب دیا: "ہمارے گھر میں تالاب ہے، ان کے پاس دریا ہے- ہمارے گھر میں رات کو برقی قمقمے جگمگاتے ہیں، ان کے پاس ستارے ہیں- ہم خوراک خریدتے ہیں، وہ خود اگاتے ہیں- ہماری حفاظت کے لیے گھر کی لمبی لمبی دیواریں ہیں، ان کی حفاظت کے لیے ان کے دوست ہی۔  ہمارے پاس انسائیکلوپیڈیا ہے، ان کے پاس قرآن ہے
ڈیڈی آپ کا بہت شکریہ یہ دیکھانے کے لیے کہ ہم کتنے غریب ہیں۔
نتیجہ: صرف دولت ہی انسان کو امیر نہیں بناتی، بلکہ سادگی اور الله پر یقین آپ کو امیر بناتا ہے۔

Post a Comment Blogger

 
Top