جاودانی جو میری آنکھ میں ہے
لامکانی جو میری آنکھ میں ہے
ڈرا دیتی ہے اکثر آئینے سے
یہ ویرانی جو میری آنکھ میں ہے
میرے الفاظ سے وہ کب نہاں ہے
اِک کہانی جو میری آنکھ میں ہے
گناہِ ترکِ الفت کا نشاں ہے
پشیمانی جو میری آنکھ میں ہے
میرا سرمایہِ ہستی یہی ہے
تھوڑا پانی جو میری آنکھ میں ہے
کبھی بھولےسے ہی اک بار بولو
بات مانی، جو میری آنکھ میں ہے
خواب سا خواب ہی سہی دوست
یہ نشانی جو میری آنکھ میں ہے

Post a Comment Blogger

 
Top