مرے ویران کمرے میں
کبھی آؤ دکھاؤں میں
دراڑیں سانپ بن کر
کیسے دیواروں سے لپٹی ہیں
کبھی آؤ دکھاؤں
چیونٹیاں لمبی قطاروں میں
مری ہمسائیآں ہو کر
 مجھی سے لا تعلّق ہیں
کبھی آؤ دکھاؤں میں
ہوا ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اَ کر
کس طرح مجھ کو چڑاتی ہے
سحر ہوتے ہی کیسے
روشنی آنکھوں میں چبھ کر
مجھ پہ طنزا مسکراتی ہے
کبھی آؤ دکھاؤں میں
, مرے چاروں طرف بکھرے ہوئے
سگریٹ کے ٹکڑے ہیں
کہ جیسے اک پرانی قبر پر
رکھے ہوئے سوکھے ہوئے پتّے
کبھی آؤ دکھاؤں میں
وہ الماری کہ جو چوپٹ کھلی ہے
اور میں اس میں ڈھونڈتا ہوں کچھ
تو اکثر بھول جاتا ہوں
کہ میں کیا ڈھونڈتا ہوں
اور یہ ٹیڑھا آئینہ
ٹوٹے ہوئے چہرے پہ کیسے چونک اٹھتا ہے
کبھی آؤ دکھاؤں میں
مرے ویران کمرے کے بہت گمنام کونے میں
تمہارے ہجر کے دن سے
یہ دل حیران کتنا ہے
تمھارے بعد یہ کمرہ مرا ویران کتنا ہے
Tumhare Baad Yeh kamrah Mera Weraan kitna Ha - Urdu So Sad Ghazal

Post a Comment Blogger

 
Top