اُس کے ہاتھ میں پستول تھا اور سامنے ہزاروں کا مجمع ،سب کے ہاتھ خالی
کچھ کے تو پیٹ بھی خالی
کسی کے جسم پر پورا لباس نہ تھا
سب کی آنکھوں میں وحشت تھی۔
چہرے پر گھبراہٹ،سب کی نظر اُس کے پستول پر تھی
یہ بات سب جانتے تھے کہ
 پستول میں صرف ایک گولی ہے۔
ایک گولی کافی ہے۔
  یہ بات سب کو معلوم تھی ۔
سب ساکت تھے۔
کوئی ایک قدم آگے بڑھانے کو تیار نہیں تھا آخر
اُس نے پستول والا ہاتھ بلند کیا اور
گولی چلا دی
سب بھاگ کھڑے  ہوئے
کیونکہ
اولمپک ریس  شروع ہوچکی تھی۔
!دل تھام کے بیٹھئے
Urdu Funny Wallpapers, Urdu Funny Articles, Funny images, jokes wallpapers

Post a Comment Blogger

 
Top