افلاطون اپنے اُستاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا۔
سقراط نے مسکرا کر پوچھا : وہ کیا کہہ رہا تھا۔
افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ’’آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا۔
سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا : تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر رکھو اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے۔
aflatoon scientist,aflatoon philosopher wikipedia,aflatoon meaning in urdu,aflatoon books in urdu pdf,aflatoon wikipedia,aflatoon philosopher quotes,aflatoon quotes,arastoo history in urdu pdf,arastoo quotes in urdu,arastoo wikipedia,arastu quotes in urdu,aflatoon history in urdu books,arastoo history in hindi,sukrat history in urdu pdf free download,arastu philosopher biography,arastoo wikipedia in urdu
افلاطون نے عرض کیا ’’یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے؟‘‘سقراط بولا
کیا تمھیں یقین ہے تم مجھے یہ بات بتانے لگے ہو یہ بات سوفیصد سچ ہے؟ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا سقراط نے ہنس کر کہا پھر یہ بات بتانے کا تمھیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا سقراط نے کہا
یہ پہلی کسوٹی تھی، ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔
مجھے تم جو بات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟
افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا۔ جی! نہیں یہ بُری بات ہے۔
‘سقراط نے مسکرا کر کہا کیا تم یہ سمجھتے ہو تمھیں اپنے اُستاد کو بُری بات بتانی چاہیے؟
افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا
سقراط بولا :گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی۔
افلاطون خاموش رہا سقراط نے ذرا سا رک کر کہا
اور آخری کسوٹی یہ بتائو وہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟
افلاطون نے انکار میں سرہلایا اور عرض کیا یا اُستاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں۔
سقراط نے ہنس کر کہا
اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟

Post a Comment Blogger

 
Top