sachay islami waqiat true islamic stories, islami waqiat in urdu, True islamic Stories, Na Qabil E Yaqeen Sachay Waqiat, Advice sMs, Hadith sMs, islamic sMs, True Stories,
!مظلوم کی آہ سے بچو ورنہ۔۔۔۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ
   اہل کوفہ نے سعد بن ابی وقاصؓ(جو کوفہ کے حاکم مقرر ہوئے تھے) کی عمر فاروقؓ سے شکایت کی۔ اس لیے عمر ؓ نے ان کو معزول
کر کے عمارؓ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک شکایت کی تھی کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی 
نہیں پڑھاتے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا۔ 
آپؓ نے ان سے پوچھا کہ اے ابو اسحاق(حضرت سعد بن ابی وقاص کی کنیت ہے) ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ 
آپ اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو؟۔
 اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں (قرآت) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ 
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "اے ابواسحاق! مجھ آپ سے امید بھی یہی تھی۔
 پھر آپ نے سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔
 سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ 
تھی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ "جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو (سنیے کہ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔
 سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اللہ کی قسم میں (تمہاری اس بات پر) تین دعائیں کرتا ہوں۔ 
اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا 
اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ 
اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ) جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا کہ ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے  سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی۔ 
عبدالملک(ایک راوی) نے بیان کیا کہ 
میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھی لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا۔
                                        (صحیح البخاری:755)

Post a Comment Blogger

 
Top