حقیر سے حقیر تر پیشہ بھی بھیک مانگنے سے بہتر ہے۔
ہم دونوں لاہور اسٹیشن پہ اتر کر اپنی مطلوبہ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔گاڑی روانہ ھونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا ۔ ہم دونوں پھر اپنی گفتگو میں مگن ہو گئے۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ گاڑی میں تقریباً 60 سال کا ایک بوڑھا
بیساکھیوں کا سہارا لئے سوار ہوا۔
اس نے سوار ہوتے ہی صدا لگائی:  میرے پاس بڑی زبردست ٹافیاں ہیں ۔کسی بھائی بہن کی طبیعت خراب ہو یا منہ کا ذائقہ خراب ہو تو یہ ٹافیاں اسے بڑا فائدہ دیں گی۔  ایک ٹافی کی قیمت ہے صرف 2 روپے۔ کوئی مسافر لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔
ہمیں اسکی معذوری اور عمر کا بڑا افسوس ہو رہا تھا۔ میرے دوست نے بٹوے سے دس روپے نکالےاور ازراہِ ہمدردی اسے دے دئیے ۔اُس بوڑھے نے وہ دس روپے لیے اور ہماری طرف 5 ٹافیاں بڑھا دیں۔ ہم نے کہا
نہیں آپ یہ ٹافیاں اپنے پاس ہی رکھیں۔ہمیں طلب نہیں  ہے انکی۔
اس نے کہا : اگر ٹافیاں نہیں لینی تو اپنے یہ دس روپے  واپس لے لیں آپ۔
میں نے کہا: نہیں نہیں ۔۔۔
آپ ہمیں ٹافیاں ہی دے دیں ۔اس نے ہمیں ٹافیاں دیں۔ کچھ دیر گاڑی میں رُکا رہا اور پھر بیساکھیوں کاسہارا لیتے ہوئےنیچے اتر گیا۔
مجھے اس بوڑھے کی معذوری پہ جہاں ایک دکھ ہو رہا تھا ،وہیں ایک خوشی بھی ہو رہی تھی کہ آفرین  ہے اس کی ہمت پرکہ اس نے بھیک مانگنے کی بجائے حق حلال اور محنت کی کمائی کو ترجیح دی ھوئی تھی ۔ وہ ٹانگوں سے معذور ضرور تھا مگر اسکی عزتِ نفس معذور نہیں تھی  اور یہ پہلا شخص تھا جس کی خودی نے مجھے اندر تک ہِلا کے رکھ دیا تھا۔
مجھے حدیث شریف یاد آگئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے  پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور ( بھیک ) اسے دی جائے یا نہ دی جائے ۔ اس کی بھی کوئی امید نہ ہو ۔

Post a Comment Blogger

 
Top