کوئی تو سمجھائے
کل دفتر سے آتے ہوئے ایک بوڑھی اماں اور اس کیدوشیزہ بیٹی کو دیکھااماں حجاب اوڑھے بس سٹاپ پر کھڑی تھی اور ساتھ 
میں ایک  دوشیزہ لڑکی فل میک اپ میں تھی۔
اماں خود تو چادروں سے لدی ہوئی تھی لیکن دوسری طرف بیٹی ان سے محروم اور اپنے آپ کو کسی فلم سٹار ہیروئن سے 
کم نہیں سمجھ رہی تھی۔
دیکھ کے بہت تعجب آمیز دکھ ہوا دل میں سوچا کہ
کوئی تو اس اماں کوسمجھائے
او اماں! رے ۔۔۔پیاری اماں
آپ ایکسپائر ہو چکی ہیں، آپ کو کس نے دیکھنا ہے۔اگر کوئی دیکھے گا بھی تو سلام کہہ کر اپنی راہ لے گاجسے دیکھنا ہے
اس کا پردہ کروا یں۔۔۔۔۔
لیکن پھر یہ سوچ کے دل کے ارمانوں کو افشاں ہونے سے بچائے رکھا کہ وہ دور تو گیا جب کہا جاتا تھا
"نیکی کر دریا میں ڈال"
آج کے دور میں یہ کہاوت کچھ اس طرح سے کہنی بہتر ہو گی
"نیکی کر، تے گَل پا"
اور پھر میں اپنے گھرکی جانب چلنے لگا۔

Post a Comment Blogger

 
Top