ماں
جب تو پیدا ہوا کتنا مجبور تھا
یہ جہاں تیری سوچوں سے بھی دور تھا
ہاتھ پاؤں بھی تَب تیرے اپنے نہ تھے
تیری آنکھوں میں دنیا کے سَپنے نہ تھے
تجھ کو چلنا سکھایا تھا ماں نے تیری
تجھ کو دِل میں بَسایا تھا ماں نے تیری
ماں کے سایے تلے پَروان چڑھنے لگا
وقت کے ساتھ قد تیرا بڑھنے لگا
دھیرے دھیرے تو کَڑیل جوان ہو گیا
تجھ سارا جہاں مہربان ہو گیا
ایک دن ایک حسینہ تجھے بھا گئی
بن کے دلہن پھر وہ تیرے گھر آ گئی
فرض اپنے سے پھر تو دور ہونے لگا
بیج نفرت کا خود ہی تو بونے لگا
بات پہ بات پھر تو اُن سے لڑنے لگا
قاعدہ پھر اِک نیا تو بھی پڑھنے لگا
مدتیں ہو گئیں آج بوڑھا ہے تو
جو پڑا گلی میں کوڑا ہے تو
تیرے بچے بھی اب تجھ سے ڈرتے نہیں
بس نفرتیں ہیں محبت وہ کرتے نہیں
موت مانگے تجھے موت آتی نہیں
ماں کی صُورت نگاہوں سے جاتی نہیں
موت آئے گی تجھ کو مگر وقت پر
بن ہی جائے گی تیری قبر وقت پر
قدر ماں باپ کی گر کوئی جان لے
اپنی جنت کو دنیا میں وہ پہچان لے
پھر لیتا رہے وہ بڑوں کی دعا
اس کا دونوں جہانوں میں حامی خدا
یاد رکھنا تم عدنان  کی اس بات کو
بھول جانا نہ رحمت کی اس برسات کو

Post a Comment Blogger

 
Top