تین سوال اور تین جواب
حضرت انسؓ نے بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن سلامؓ (جو یہود کے بڑے عالم تھے)نے رسول اللہ ﷺ کی (مدینہ) تشریف
 لانے کی خبر سنی تو وہ اُس وقت اپنے باغ میں پھل توڑ رہے تھے۔ اسی وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے
اورعرض کیا کہ
میں آپ سے ایسی تین چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔بتلائیے
پہلا قیامت کی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟
دوسرا اہل جنت کی دعوت کے لیے سب سے پہلے کیا چیز پیش کی جائے گی؟
 تیسرا بچہ کب اپنے باپ کی صورت میں ہو گا اور کب اپنی ماں کی صورت پر؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
مجھے ابھی جبرائیلؑ نے آ کر اِن سوالات کے متعلق بتایا ہے۔
عبداللہ بن سلام بولا:  جبرائیل علیہ السلام نے۔۔۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ! عبداللہ بن سلام نے کہا: وہ تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔
اس پر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی
«من كان عدوا لجبريل فإنه نزله على قلبك»
کہہ دو کہ جو شخص جبرائیلؑ  کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مرجانا چاہئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔(سورۃ البقرۃ:97)۔
اور ان کے سوالات کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا
پہلا  قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہو گی جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر لائے گی۔
دوسرا  اہل جنت کی دعوت میں جو کھانا سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہو گا۔
تیسرا جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غلبہ کر جاتا ہے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غلبہ کر جاتا ہے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے
«أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أنك رسول الله»
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں"
!پھر عرض کیا۔  یا رسول اللہ
یہودی بڑی بہتان باز قوم ہے۔ آپ اِن سے میرے متعلق کچھ پوچھیں انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو مجھ پر بہتان تراشیاں
شروع کر دیں گے۔ بعد میں جب یہودی آئے تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ
عبداللہ تمہارے یہاں کیسے آدمی سمجھے جاتے ہیں؟
وہ کہنے لگے
ہم میں سب سے بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے بیٹے(ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں)۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ
اگر وہ اسلام لے آئیں پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟
کہنے لگے
اللہ تعالیٰ اس سے انہیں پناہ میں رکھے۔
اتنے میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ظاہر ہو کر کہا
«أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله»
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں"
اب وہی یہودی ان کے بارے میں کہنے لگے کہ
 یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر شخص کا بیٹا ہے اور ان کی توہین شروع کر دی۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا
یا رسول اللہ! یہی وہ چیز تھی جس سے میں ڈرتا تھا۔
(صحیح البخاری ــ کتاب التفسیر:4480)

Post a Comment Blogger

 
Top